منگل 12 مئی 2026 - 09:30
حاکم اور عوام دونوں خدا کے سامنے اور ایک دوسرے کے مقابل بھی ذمہ دار ہیں

حوزہ/ ادارہ تحقیقات علوم و ثقافت اسلامی کے زیرِ اہتمام علمی نشست "قرآن کی روشنی میں حکمرانی" کا انعقاد کیا گیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ادارہ تحقیقات علوم و ثقافت اسلامی کی جانب سے "حکمرانی از منظر قرآن" کے عنوان سے ایک علمی نشست کا انعقاد ہوا۔ جس میں ادارہ تحقیقات علوم و ثقافت اسلامی کے سربراہ حجت الاسلام والمسلمین نجف لک زایی نے خطاب کرتے ہوئے کہا: نظارت یا نگرانی کو مختلف زاویوں سے تقسیم کیا جا سکتا ہے اور انہوں نے "ناظرین" کے موضوع پر بھی سیرحاصل گفتگو کی۔

انہوں نے کہا: قرآن کریم کی آیات کی روشنی میں خداوند پہلا ناظر ہے جو تشریعی اور تکوینی دونوں شعبوں میں نگرانی کرتا ہے۔ دوسرے درجے میں، انسانوں کی ایک دوسرے پر نگرانی ہے جس میں مختلف اقسام شامل ہیں جن میں الہی رہنماؤں کی معاشرے پر نگرانی اور مومنین کی ایک دوسرے پر عمومی نگرانی بھی شامل ہے جو "امر بالمعروف و نہی عن المنکر" اور "مسلمانوں کے پیشواؤں کو نصیحت کرنے" کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔

حجت الاسلام والمسلمین لک زایی نے نگرانی کی دیگر جہتوں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: خاندان کے افراد کی ایک دوسرے پر نگرانی بھی ایک اہم سطح ہے۔ نیز نگرانی کو اندرونی اور بیرونی، رسمی اور غیر رسمی، اور شعبہ جاتی اور تخصصی نگرانی میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

حوزہ اور یونیورسٹی کے اس استاد نے قرآن کریم میں نگرانی کی پالیسیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: "قوانین اور ضوابط نگرانی"، "ناظرین اور ناظرین پر نگرانی" اور "اہداف اور نظریات کے حصول پر نگرانی" جیسے مباحث اس شعبے میں کلیدی مسائل میں سے ہیں۔ ان کے مطابق، اجزاء اور نگرانی کی بنیاد پر نگرانی کی تقسیم، قرآن کے نقطہ نظر سے اس بحث کے سب سے اہم پہلوؤں میں سے ہے۔

ادارہ تحقیقات علوم و ثقافت اسلامی کے سربراہ نے سورہ توبہ کی آیت نمبر 105 سے استناد کرتے ہوئے الہی نگرانی کے عام اور وسیع تصور پر زور دیا۔ اس آیت کے مطابق انسان جو بھی قدم اٹھاتا اور عمل انجام دیتا ہے وہ خدا، پیغمبر اور مومنین کی موجودگی میں ریکارڈ اور محفوظ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا: قرآن کریم میں ذکر جنگوں جیسے بدر، احد اور احزاب کے بارے میں دقیق تفصیلات ذکر ہوئی ہیں۔ نیز سورہ فجر میں، قوم عاد، ثمود اور فرعون جیسی گزشتہ اقوام کے متعلق اور ان کے انجام اور عذاب کا ذکر کیا گیا ہے۔ خدا نے اس نظارت و نگرانی کو واضح کرنے کے لیے "کفی بالله حسیبا"، "ألم یعلم بأن الله یری" اور "بغافل عما تعملون" جیسے تعبیرات استعمال کی ہیں۔

حجت الاسلام والمسلمین لک زائی نے آخر میں کہا: نظام کی اس نگرانی کا اصل ہدف معاشرے میں "افراد کو ذمہ دار بنانا اور ان کے اندر ذمہ داری پیدا کرنا" ہے۔ اس نمونے میں، حاکم اور عوام دونوں ایک دوسرے کے مقابلے میں اور خدا کے سامنے ذمہ دار ہیں۔ یہ عمل بالآخر اسلامی معاشرے میں "ولائی نظم" کی تشکیل کا باعث بنتا ہے، جس میں تمام ارکان ذمہ داری اور جواب دہی کی بنیاد پر حرکت کرتے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha